حضرت سلیمان (ع)اورعاشق چڑیاڈاکٹر محمد لطیف مطہری کچوروی
اسلامی تعلیمات میں خداوند متعال سے محبت کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ انسان کو کمال کی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے انسان کا دل خدا کی محبت سے معمور ہونا چاہیے۔جب دل میں خدا کی محبت پیدا ہوتی ہے تو بندہ محبوب کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی رضا حاصل کرنا محبت کی علامت ہے۔بہت سی روایات میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ دل کو خدا کی محبت کا مرکز بنایا جائے اور اس کے سوا کسی کو اس میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ اگر خدا کی محبت کے بجائے دل کے ارزشی ظرف
برچسب:
نویسنده: النا امیری
اسلام ٹائمز: جو شخص ہر نماز کے بعد امام علی علیہ السلام کی تسبیح پڑھے گا، خداوند متعال اس سے ہزار دنیاوی آفتیں دور کر دے گا، جن میں سے سب سے آسان دین سے ارتداد ہے اور اس کے لئے آخرت میں ہزار ٹھکانے تیار کرے گا، جن میں سے ایک رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت ہے۔
تحریر: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری کچورویتسبیحات حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی مانند ایک اور بافضیلت تسبیح، تسبیحات امام علی علیہ السلام ہیں، جو نہایت ہی آسان اور بڑی فضیلت کی حامل ہیں۔ امام علی علیہ السلام کی تسبیح کچھ اس طرح سے
برچسب:
نویسنده: النا امیری
تسبیحات حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پڑھنے کی فضیلتڈاکٹرمحمد لطیف مطہری کچوروی
تسبیح ایک اہم عمل ہے جس پر توجہ نہایت ضروری ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تسبیح مسلمانوں میں سب سے زیادہ فضیلت والی اذکار میں سے ایک ذکرہے اوراور یہ ذکر اورتسبیح واجب اورمستحب نمازوں کے بعد، سوتے وقت اور معصومین علیہم السلام کی زیارت کے آغاز میں پڑھنا مستحب ہے۔اسی طرح یہ تسبیح نماز صبح کے بعد پڑھنا مستحب موکد ہے ۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تسبیح یہ ہے : 34 مرتبہ اللہ اکبر، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 3
برچسب:
نویسنده: النا امیری
صدر اسلام کی سب سے بااثر شخصیات میں سے ایک حضرت ابو طالب(ع) اما م علی (ع) کے والد گرامی ہیں ۔ حضرت ابو طالب(ع) کا نام "عمران” تھا اور بعض افراد انہیں "عبد مناف” کے نام سے پکارتے تھے ۔ ان کے بڑے بیٹے کانام "طالب” تھا، اس لیے انہیں ابو طالب کہا جاتا تھا ۔ وہ پیغمبر اسلام (ص) کی ولادت سے 35 سال قبل مکہ میں ایک ممتاز اور موحد گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ رسول خدا کے والد گرامی عبد اللہ کے بھائی تھے اور آپ کے والد گرامی عبدالمطلب پیغمبر اسلام کے دادا تھے۔ ابو طالب کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ ان کے بیٹ
برچسب:
نویسنده: النا امیری
گردشِ زمانہتحریر: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ دنیا کے حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی خوشی تو کبھی غم، کبھی عزت تو کبھی ذلت، کبھی دولت تو کبھی فقر، کبھی عروج تو کبھی زوال۔ قرآن مجید اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے: (وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ) یعنی ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ تاریخ اور واقعاتِ عالم اس حقیقت کے زندہ شاہد ہیں کہ زمانہ کسی ایک حال پر قائم نہیں رہتا۔تاریخ میں نظرآتا ہے کہ جعفر بن یحییٰ برمکی جو خلیفہ ہارون الرشید کا مقرب اور ن
برچسب:
نویسنده: النا امیری
ملیکۃ العرب خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا کون؟تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی
وہ بابصیرت خاتون جو عام الفیل سے ۱۵ سال قبل اور ہجرت سے ۶۸ سال قبل شہر مکہ میں پیدا ہوئیں ۔وہ یکتا پرست خاتون جو اسلام سے قبل یعنی زمانہ جاہلیت میں بھی آسمانی کتابوں پر اعتقاد رکھتی تھیں اور خدائے وحدہ لا شریک کی پرستش کرتی تھیں۔ وہ اپنے تجارتی کاروان کو دور دراز ممالک کی طرف روانہ کرتے وقت کعبہ میں جاکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خدا سے اپنی تجارت میں برکت حاصل ہونے کی دعا کرتی تھیں۔وہ با اخلاق خاتون جن کی توصیف عصر جا
برچسب:
نویسنده: النا امیری
حدیثِ سلسلۃ الذہب، شہادتِ رہبرمعظم انقلاب اور استکبار کے خلاف مزاحمتی جدوجہد
تحریر: ڈاکٹر محمد لطیف مطہریحدیثِ سلسلۃ الذہب وہ عظیم روایت ہے جو امام علی بن موسیٰ الرضاعلیہ السلام نے شہر نیشاپور میں ارشاد فرمائی۔ یہ حدیث صرف ایک اعتقادی بیان نہیں بلکہ فکری، سیاسی اور عملی زندگی کے لیے ایک جامع منشور کی حیثیت رکھتی ہے۔امام (ع) نے فرمایا:(کلمَةُ لا إلهَ إلَّا اللَّهُ حِصْنِي فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِي أمِنَ مِنْ عَذابِي)کلمہ «لا الٰہ الا اللہ» میرا قلعہ ہے، جو اس قلعے میں داخل ہو جائے وہ میرے عذاب سے مح
برچسب:
نویسنده: النا امیری
( soft war)جنگ نرم کے بارے میں ایک اجمالی نظرتحریر:ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
ماضی میں زیادہ تر جنگیں ہتھیاروں اور فوجی طاقت کے ذریعے لڑی جاتی تھیں جنہیں جنگِ سخت کہا جاتا ہے، لیکن موجودہ دور میں ایک نئی قسم کی جنگ بھی سامنے آئی ہے جسے جنگِ نرم کہا جاتا ہے۔ آج کے زمانے میں دونوں قسم کی جنگیں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔جنگِ سخت :جنگِ سخت سے مراد وہ جنگ ہے جس میں ہتھیاروں، فوجی طاقت، ٹینکوں، جہازوں اور دیگر عسکری وسائل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قسم کی جنگ میں جانی اور مالی نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے اور م
برچسب:
نویسنده: النا امیری
مزاحمت و مقاومت کی پیکر خواتین(پہلی قسط)تحریر: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
عاشورا کا واقعہ اخلاقی اور ایمانی اقدار کا مجموعہ ہے ۔یہ واقعہ صبر ، استقامت ،مقاومت ، شجاعت ، پرہیزگاری ،عقیدہ ،اخلاق اور طرز زندگی سکھاتا ہے۔ اس واقعے میں چھوٹے، بڑے،خواتین اور مرد سب شامل ہیں اور ہر ایک کا اپنا کردار ہے۔خواتین نے اس دنیا میں ہونے والی تمام تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر عظیم پیغمبروں کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ خواتین کا کردار بہت موثر رہا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اورحضرت اسماعیلؑ کی تاریخ
برچسب:
نویسنده: النا امیری
عزیز ترین رہبرِ شہید کے نام خراج عقیدت
تحریر: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری کچورویبسم ربّ الشہداء والصدیقینحال ما در هجر رہبر کمتر از یعقوب نیستاو پسر گم کرده بود و ما پدر گم کرده ایم"رہبر کی جدائی میں ہمارا حال حضرت یعقوبؑ سے کم نہیں؛ انہوں نے اپنے بیٹے کا فراق سہا تھا اور ہم اپنے روحانی باپ کی جدائی کا غم اٹھا رہے ہیں۔"اے میرے محبوب رہبر! آخر کہاں سے آغاز کروں۔؟ اس آہ سے جو برسوں سے سینے میں قید ہے، یا ان آنسوؤں سے جو آج بھی آپ کی جدائی کی خبر کو جھٹلا دینا چاہتے ہیں۔؟ میں بارہا اپنے دل کو سمجھاتا ہ
برچسب:
نویسنده: النا امیری
صادق آل محمد علیہ السلامتحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امام جعفر صادق علیہ السلام ۱۷ ربیع الاول کو اپنے جد بزرگوار رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے دن ۸۴ ھ میں پیدا ہوئے۔آپ کی مشہور ترین کنیت ابو عبد اللہ اور معروف ترین لقب صادق تھا ۔ آپ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر جن کی کنیت " ام فروہ " تھی ۔یہ خاتون امیرالمؤمنین علی علیہ السلا م کے یار و وفادار شھید راہ ولایت و امامت حضرت محمد بن ابی بکر کی بیٹی تھی ۔ اپنے زمانے کے خواتین میں باتقوی ، کرامت نفس اور بزرگواری سے معروف و مشہور تھی ۔ امام صادق علیہ السلام نے ان کی شخصیت کے بارے میں فرمایا ہے : میری والدہ ان خواتین میں سے ہے جنہوں نے ایمان لایا اور تقوی اختیار کیا اور نیک کام کرنے والی اور اللہ نیک کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔ آپ نےنصف زمانہ اپنے جد بزرگوار اور پدر گرامی کی تربیت میں گزارا ۔یہ قیمتی زمانہ آپ کے لئے خاندان وحی سے سے علم و دانش، فضیلت و معرفت الہی کسب کرنے کا بہترین موقع تھا ۔ امام علیہ السلام اسلامی اخلاق اور انبیائی فضائل کے مکمل نمونہ تھے آپ کا ارشاد ہے {کو نوادعاۃ الناس بغیر السنتکم } لوگوں کو بغیر زبان کےاپنے عمل سے دعوت دو۔ آپ حلم ،برباری ،عفو درگزر کےپیکر تھے۔حاجت مندوں کی مدد کرنے کو باعث افتخار سمجھتے تھے ۔ امام علیہ السلام کی شخصیت اور عظمت کو نمایاں کرنے کے لئے اتنا کافی ہے کہ آپ کا سخت ترین دشمن منصور دوانقی جب آپ کی خبر شہادت سے مطلع ہوا تو اس نے بھی گریہ کیا اور کہا : کیا جعفر ابن محمد کی نظیر مل سکتی ہے؟مالک ابن انس کہتے ہیں کہ جعفر صادق جیسا نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں یہ خطور
برچسب:
نویسنده: النا امیری
امام حسن عسکری علیہ السلام کا اسحاق کندی اور جاثلیق نصرانی کو جوابتحریر:محمد لطیف مطہری کچوروی اسحاق کندی عراق کے دانشوروں اور فلاسفہ میں سے تھا اور لوگوں میں علم،فلسفہ اور حکمت کے میدان میں شہرت رکھتا تھا لیکن اسلام قبول نہیں کرتا تھااور اُس نے اپنی ناقص عقل سے کام لیتے ہوئےفیصلہ کر لیا کہ قرآن میں موجود متضاد و مختلف امور کے بارے میں ایک کتاب لکھے کیونکہ اُس کی نظر میں قرآن کی بعض آیات بعض دوسری آیات کے ساتھ ہم آہنگ اور مطابقت نہیں رکھتے ہیں اور ان کی تطبیق سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں(نعوذ باللہ)ناہم آہنگی پائی جاتی ہے اس لیے اُس نے سوچا کہ ایسی کتاب لکھے جس میں وہ یہ ثابت کرے کہ قرآن میں تناقض اور ضد و نقیض چیزیں پائی جاتی هیں، اس کے لکھنے میں وہ اس قدر سرگرم هوا کہ لوگوں سے الک تھلگ هوکر اپنے گھر کے اندر ایک گوشہ میں بیٹھ کر اس کام میں مصروف هوگیا، یهاں تک اس کا ایک شاگرد، امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب هوا، امام نے اس سے فرمایا: کیا تم لوگوں میں کوئی ایک عقلمند اور باغیرت انسان نہیں هے جو اپنے استاد کو دلیل و برہان کے ساتھ ایسی کتاب لکھنے سے روک سکے اور اُسے اس فیصلے پر پشیمان کرسکے۔ اس شاگرد نے عرض کیا: هم اس کے شاگرد هیں اس لئے اعتراض نہیں کرسکتے ۔ امام نے فرمایا: کیا جو کچھ میں تم سے کہوں گا اس تک پہنچا سکتے هو ؟۔شاگرد نے کہا: هاں، امام نے فرمایا: اس کے پاس جاؤ اور وه جو کام کرنا چاهتا هے اس میں اس کی مدد کرو، پھر اس سے کہو استاد ایک سوال هے اگر اجازت دیں تو پوچھوں؟ جب وه تم کو سوال کرنے کی اجازت دے تو اس سے کہو: اگر قرآن کا بیان کرنے والا آپ کے پاس آئے (اور کہے کہ یہ میری مراد نہیں هے جو تم سمجھ رهے هو) کیا آپ یہ احتمال نہیں دیں گے کہ قرآنی الفاظ
برچسب:
نویسنده: النا امیری
اس حدیث کی بہترین توجیہ یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام کے سچے عاشق کبھی گناہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتےہیں چہ جائیکہ یہ افراد گناہ انجام دیں لہذا امام علی علیہ السلام کی محبت اور ان سےعشق ،انسان کو گناہوں سے دور رکھنے کا بہترین عامل ہے۔تحریر: محمد لطیف مطہری کچورویامام علی علیہ السلام کے فضائل کے بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہونے والی احادیث میں سے ایک حدیث جو مختلف طریقوں سے نقل ہوئی ہے اور شیعہ و سنی منابع میں موجود ہے۔یہ روایت ہے:(حُبُّ عَلِیٍّ حَسَنَةٌ لَا یَضُرُّ مَعَهَا سَیِّئَةٌ وَبُغْضُ عَلِیٍّ سَیِّئَةٌ لَا یَنْفَعُ مَعَهَا حَسَنَة) [۱] علی (ع) سے محبت کرنا ایک نیکی ہے جس کی موجودگی میں کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچا سکتا اور علی سے دشمنی ایک ایسا گناہ ہے جس کی موجودگی میں کوئی بھی نیکی فائدہ نہیں دیتی ہے۔اس روایت کے بارے میں یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ کیا امام علی علیہ السلام کی محبت کی موجودگی میں کسی قسم کا کوئی گناہ نقصان اورضرر نہیں پہنچا سکتاہے اور کیا صرف امام علی علیہ السلام کی محبت ہی کافی ہے اور دوسرے اعمال کو بجا لانے کی ضرورت نہیں ہے؟آیت اللہ مرعشی نجفی رہ نے اپنی کتاب شرح احقاق الحق میں اس روایت کو تین طریقوں سے نقل کیا ہے اور ہر طرق میں کچھ سنی راوی موجود ہے۔یہ روایت عبداللہ ابن عباس، [۲] معاذ ابن جبل، [۳]انس ابن مالک [4] اور ابن عمر [5] سے متعدد سندوں کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔اگر ایک روایت متعدد سند کے ساتھ نقل ہو جائے تو یہی کثرت سند کے ساتھ نقل ہونا اس روایت کے معتبر ہونے اورمستفیضہ ہونے کا باعث بنتا ہےجس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ روایت بھی سند کے اعتبارسے معتبر ہے۔دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جو روایت مناقب اور فضائل کے بارے میں ہو تو اس روایت کی روایات کی سند
برچسب:
نویسنده: النا امیری