خرید بک لینک

مزاحمت و مقاومت کی پیکر خواتین(پہلی قسط)

تحریر: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری

مزاحمت و مقاومت کی پیکر خواتین(پہلی قسط)

عاشورا کا واقعہ اخلاقی اور ایمانی اقدار کا مجموعہ ہے ۔یہ واقعہ صبر ، استقامت ،مقاومت ، شجاعت ، پرہیزگاری ،عقیدہ ،اخلاق اور طرز زندگی سکھاتا ہے۔ اس واقعے میں چھوٹے، بڑے،خواتین اور مرد سب شامل ہیں اور ہر ایک کا اپنا کردار ہے۔خواتین نے اس دنیا میں ہونے والی تمام تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر عظیم پیغمبروں کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ خواتین کا کردار بہت موثر رہا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اورحضرت اسماعیلؑ کی تاریخ جناب ہاجرہؑ کے بغیر نامکمل ہے۔ حضرت عیسیٰؑ ؑکا نام جناب مریم ؑکے بغیر نہیں آتا۔ہمارے پیارے نبی اکرمؐ کے ساتھ جناب خدیجه(س) کی قربانی نظر آئے گی۔ اس کے علاوہ جناب فاطمه(س) بھی ہر مشکل میں‘ ہر جگہ اپنے بابا بزرگوار اور اپنے شوہر نامدار حضرت علی (ع)کے ساتھ ساتھ نظرآتی ہیں۔ اسی طرح کربلا کے واقعات کو زندہ و جاوید بنانے میں بھی حضرت زینب (س)حضرت کلثوم (س)،حضرت سکینہ (س)، اسیران اہل بیت اور کربلا کے دیگر شہدا کی بیویوں اور ماؤں کا اہم کردار رہا ہے۔ جناب زینب (س)کےبے مثل کردار اور قربانیوں سے تاریخ کربلا روشن نظر آتی ہے۔ واقعہ کربلا میں صرف عاشورا میں ہی نہیں بلکہ انہوں نے شہادت امام حسین (ع)کے بعد مختلف مقامات پر اپنا کردارادا کرکے یہ بات ثابت کی ہے کہ حضرت امام حسین (ع)اپنے ساتھ رہتی دنیا تک اپنے کردار سے تربیت کرنے والی مثالی خواتین کو مدینے سے ساتھ لے کر نکلے تھے۔ اس لیے بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ:

حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق

یکی حسین رقم کرد و دیگری زینب

عاشورا کے دن قربانی دینے والے امام کے دلیر ساتھی در حقیقت انہی عظیم ماؤں کی گود کا سرمایہ تھے۔ واقعہ کربلا اس چیز کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ معاشرے کو اگر شجاع و جانثار افراد کی ضرورت ہو تو اس کے لیے ہر مردِ مومن کواپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کے لیے ایسی زوجہ کا انتخاب کرنا چاہیے جو با ایمان، بہادر اور پاکیزہ کردار کی مالک ہو،تا کہ اس کے دامن تربیت سے تاریخ ساز افراد پرورش پاسکیں۔ کربلا میں امام حسین (ع)کے انصار و مجاہدین کو ان کی ماؤں اور بیویوں نے ہمت اور حوصلہ دیا کہ تم سے زیادہ ارزشی جناب فاطمہ زہرا (س)کے فرزند ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے ہوتے ہوئے دشمن ان کو نقصان پہنچا دے ۔ اگر ایسا ہوا تو ہم روز محشر سیدہ زہرا (س)کو کیا منہ دکھائیں گے۔ جناب زہیر بن قین کو ان کی زوجہ دیلم بنت عمرو نے ہی تشویق دلائی تھی۔ ابتداء میں وہ امام حسین (ع)کے کہنے پر امام کی خدمت میں چلے آئے۔ شب عاشورہ انہوں نے امام سے عرض کیا کہ :خدا کی قسم میں چاہتا ہوں کہ ہزار مرتبہ قتل کیا جاؤں لیکن آپ اور آپ کے اہل بیت کی جان بچ جائے۔ اگر آپ کی زوجہ آپ کے جذبے کو بیدار نہ کرتیں تو آپ اتنے عظیم مرتبہ پر فائز نہ ہوسکتے۔ اسی طرح جناب امام حسین (ع)شریک حیات جناب ام لیلی اور جناب رباب کے بے مثل کردارآج بھی تاریخ کو خون کے آنسو رلاتے ہیں۔ یہ ان عظیم ماوں کی ہمت ہی تھی کہ اسلام کی سر بلندی کے لئے ایک نے اپنی عمر بھر کی کمائی جناب علی اکبر (ع)کو امام حسین (ع)کے لیے عظیم مشن پرقربان کیا تو جناب رباب نے اپنے چھ ماہ کے ننھے شیر خوار کو امام کا مجاہد بنا کر پیش کیا۔ تربیت اگر ایسی ماؤں کی ہو تو پھر فرزند تاریخ میں باقی رہ جانے والے سپوت کیوں نہ بنیں۔ کربلا کے ان کرداروںمیں جناب سکینہ (س)کاکردار آج بھی اہل قلب کو سسکیاں لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ حضرت امام حسین(ع) کی سب سے کمسن دختر عزیز تھیں۔ واقعہ کربلا سے لے کر زندان شام میں آخری دم تک تاریخ گواہ ہے کہ مصائب اور پیاس کی شدت کے باوجود اس بچی نے کسی کو تنگ نہ کیا۔یہ جناب سکینہ اور ان کی والدہ گرامی ام رباب ہی تھیں جنہیں خراج محبت پیش کرتے ہوئے حضرت امام حسین(ع) نے فرمایا تھا کہ :مجھے وہ گھر اچھا نہیں لگتا جس میں سکینہ اور ام رباب نہ ہوں۔جناب عباس (ع)کی والدہ نے بھی اپنے بیٹوں کو مدینہ سے روانگی کے وقت حضرت امام حسین (ع)کے ساتھ روانہ کیا تھا اور اپنے پاس ایک بیٹے کو بھی نہیں رکھا۔ امام حسین (ع)کی شریک سفر ان کی عزیز جاں بہن جناب زینب (س)نے بھی اپنے دونوں بیٹوں عون اور محمد کو اپنے بھائی کے عظیم مقصد پرقربان کرکے میدان جنگ کی طرف روانہ کیا تھا۔ یہ جناب زینب (س)ہی تھیں جن کے خطبوں سے کربلا کی تحریک کو تا قیامت اسی شدید جذبے سے یاد رکھا جائے گا جیسے وہ صدیوں کی بات نہیں کل ہی کا واقعہ ہو۔ یہاں ہم واقعہ کربلا کے بعض مزاحمت کے پیکر خواتین کا ذکر کرتے ہیں ۔

۱۔ حضرت زینب بنت علی (س)

اس بات کی شاہد حضرت زینب (س)کی وہ مقاومت ہے جو حیوان صفت دشمنوں کے مقابلے میں آپ نے کی تھیں ۔ جب قافلہ اسراء کو فہ پہنچا تو تماشائی جمع تھے راوی نقل کرتا ہےکہ میں نے دیکھا کہ زینب کبری (س)اس طرح خطبے دے رہی تھی گویا علی ابن ابی طالب (ع)کوفے میں خطبہ دے رہا ہے ۔آپ خطبہ دیتی جارہی تھی اور فرماتی تھیں : وائے ہو تم پر آیا تم لوگ جانتے ہو کہ تم نے رسول خدا (ص)کے جگر گوشوں کو کس طرح شہید کیا؟کونسا عہد تم لوگوں نے توڑاا اور کن خواتین کو تم لوگ بازاروں میں لے آئے ہو ؟کس حرمت کو تم نے توڑ دیا ہے ؟نزدیک ہے کہ آسمان لوگوں کے قدموں سے پھٹ جائے اور زمین میں شگاف پڑ جائے پہاڑ ریزہ ریزی ہوجائےاور زمین بکھر جائے تمھیں جو مہلت ملی ہے اس سے مغرور نہ ہو چونکہ خدا کو سزا دینے میں جلدی نہیں انتقام کا وقت آجائے گا۔

آپ ؑنے ایسا دندان شکن تاریخی خطبے دئے کہ روای کہتا ہے : لوگ حیرانی اور پریشانی کے عالم میں ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹ رہے تھے گویا حشر کا سماں ہو روای کہتا ہے : ایک بوڑھا ہاتھوں کو آسمانوں کی طرف بلند کرتے ہوئے یہ کہ رہا تھا آپ کے بزرگان بہترین بزرگان اور عورتیں بہترین عورتین ہیں اور جوان بہترین جوان ہیں آپ کا فضل بہت عظیم ہے ۔ اسی طرح ابن زیاد کے دربار میں اپنا تعارف کراتے ہوئے سیدۃ زینب (س)فرماتی ہے:

تمام تعریفیں خداوند متعال کے لئے جس نے ہمیں اپنے نبی محمد(ص) کے ذریعے شرافت ووکرامت سے نوازا اور ہمیں ہر طرح کے رجس سے پاک رکھا تم فاسق اور رسوا ہو اور فاسق جھوٹ بولتا ہے ۔جب ابن زیاد نے پوچھا :آپ اپنے بھائی کے بارے میں خدا کے برتاو کو کیسے پایا ؟علی کی شیر دل بیٹی نے فرمایا :ما رائیت الا جمیلا میں نے جو بھی دیکھا اچھا دیکھا ،قیامت کے دن دیکھ لینا کہ کون کامیاب و سرفراز ہو گا اور کون ناکام و بد بخت۔حضرت امام حسین (ع)کی شہادت کے بعد آپ کی تین اہم ذمہ داریوں کا آغاز ہوا تھا جن کو آپ نے کمال کامیابی کے ساتھ نبھایا۔ سب سے بڑی ذمہ داری جناب امام سجا د(ع) کی تیمارداری اور دشمن سے ان کی حفاظت، دوسری ذمہ داری ان عورتوں اور بچوں کی حفاظت، جو بیوہ ہوچکی تھیں اور بچے یتیم۔ تیسری ذمہ داری کربلا کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا تھا۔ دم توڑتی انسانیت کو زندہ کرنے کا جو ارادہ حضرت امام حسین (ع)گھر سے لے کر نکلے تھے اس کو انجام تک کردارِ اور گفتارِ زینب نے پہنچایا۔ جناب زینب (س)کی سربراہی میں حضرت امام حسین (ع)کے اہل حرم نے کوفہ و شام کے گلی کوچے میں اپنے خطبوں کے ذریعے یزیدیت کے ظلم کا پردہ چاک کیا اور رہتی دنیا تک ہونے والی کسی بھی سازش کو بروقت بے نقاب کردیا۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نہ صرف اپنی نسلوں کی تربیت کرنے میں یہ عظیم خواتین باکمال تھیں بلکہ میدان عمل میں بھی ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔

2۔حضرت ام کلثوم(س)

عاشورہ کے موقع پر ام کلثوم (س)حضرت زینب (س) کے ساتھ موجود تھیں۔ وہ اسیروں کے ساتھ کوفہ اور شام گئی اور کوفہ اور ابن زیاد کی مجلس میں خطبہ دیا۔ امیر المومنین (ع) کی بیٹی ام کلثوم (س)نے اس دن پردے کے پیچھے سے یہ خطبہ پڑھا جب کہ ان کی آواز آنسوؤں سے لبریز تھی۔

اے اہل کوفہ تم پر افسوس! تم نے حسین کو کیوں ذلیل کیا اور اسے قتل کیا، اس کا مال لوٹا اور اس کی عورتوں کو اسیر کیا اور پھر اس کے لیے رویا، تم پر افسوس! تم پر تباہی اور مصیبت نازل ہو، کیا تم جانتے ہو کہ تم نے کیا بڑا کام کیا ہے، کیا جرم کیا ہے، تم نے ناحق کیسا خون بہایا ہے، تم نے ان کے خاندان کے کن لوگوں کو نکال باہر کیا ہے؟ تم نے کون سا مال لوٹا ہے جس کے درجے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے بعد کوئی نہیں پہنچا۔ تمہارے دلوں سے رحمت چھین لی گئی ہے، جان لو کہ خدا کی جماعت کامیاب ہے اور شیطان کی جماعت ہارنے والی ہے۔

اسیری کے دوران جب اہل کوفہ بچوں کے لیے کھانا لے کر آئے تو ام کلثوم (س)نے پکار کرفرمایا: اے اہل کوفہ ہم پر صدقہ حرام ہے۔

3۔ام وہب، عبداللہ کلبی کی زوجہ

عاشورہ کے دن شہید ہونے والی واحد خاتون۔ امِّ وہب، جب ان کے بہادر شوہر حضرت عبداللہ کلبی عاشورا کے دن امام حسین (ع) کے لشکر کی نصرت کے لیے روانہ ہوئے، تو انہوں نے اپنے شوہر کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ بھی ان کے ساتھ جائیں۔ جب ان کے شوہر میدانِ جنگ کی طرف جا رہے تھے تو امِّ وہب نے بھی ایک ستون (یا لکڑی) اٹھا لیا تاکہ وہ خود بھی جنگ میں شریک ہوں، لیکن امام حسین(ع) نے انہیں خواتین کے خیموں کی طرف واپس بھیج دیا۔چند لمحوں بعد ان کے شوہر شہید ہو گئے۔ امِّ وہب دوبارہ میدان میں پہنچیں تاکہ اپنے شوہر کو آغوش میں لے سکیں۔ اسی دوران شمرِ ملعون نے ان کے قتل کا حکم دیا، اور یزیدی لشکر کے سپاہیوں نے ان پر حملہ کر دیا، یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئیں۔(تاریخ الطبری، ج 5، ص438)

4۔ دلہم، زہیر بن قین کی زوجہ

دلہم؛ وہ خاتون جس نے زہیر کو سعادت کی راہ دکھائی۔زہیر بن قین، جو ابتدا میں عثمانی رجحان رکھتے تھے، ان کی ابدی نجات اور سعادت میں سب سے بڑا کردار ان کی اہلیہ دلہم کا تھا۔ واقعۂ عاشورا کے دنوں میں زہیر کوشش کرتے تھے کہ ان کا سامنا امام حسین(ع) سے نہ ہو۔لیکن جب امام حسین(ع) کا قاصد آیا، سلام پہنچایا اور کہا کہ امام آپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، تو زہیر جانے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس موقع پر ان کی اہلیہ نے کہا:"سبحان اللہ! رسولِ خدا (ص) کی صاحبزادی کے فرزند آپ کو بلا رہے ہیں اور آپ نہیں جاتے؟"انہوں نے یہ بات اس قدر پُرعزم انداز میں کہی کہ زہیر شرمندہ ہو گئے۔ چنانچہ دلہم نے انہیں امام حسین(ع) کی خدمت میں جانے پر آمادہ کیا، اور یوں زہیر، امام حسین(ع) کے وفادار ساتھیوں میں شامل ہو گئے۔(تاریخ طبری، ج ۴، ص۲۹۸)

5۔اسماء، مختار ثقفی کی زوجہ

واقعۂ عاشورا کے بعد، مصعب بن زبیر نے مختار ثقفی کی اہلیہ اسماء بنت نعمان بن بشیر کو گرفتار کر لیا تاکہ ان سے بھی انتقام لیا جا سکے۔مصعب نے ان سے مختار کے بارے میں سوال کیا تو اسماء نے نہایت جرات اور استقامت کے ساتھ جواب دیا:"دشمنِ خدا تو خود ہے، اور مجھ سے اس شخص کے بارے میں پوچھتا ہے جو دشمنانِ خدا کا دشمن تھا؟ یقیناً وہ تقویٰ اور اسلام میں تجھ سے بہتر تھا۔"اسماء کے یہ دلیرانہ الفاظ مصعب برداشت نہ کر سکا۔ اس نے وہیں اسی شریف اور باوقار خاتون کے قتل کا حکم دے دیا، اور ان کی گردن قلم کر دی گئی۔(مروج الذهب، مسعودی، ج ۲، ص ۹۸ تا ۱۰۰)

برچسب: نویسنده: النا امیری تاريخ: چهارشنبه 11 شهريور 1405 ساعت: 20:45

صفحه بندی