خرید بک لینک

اسلام ٹائمز: جو شخص ہر نماز کے بعد امام علی علیہ السلام کی تسبیح پڑھے گا، خداوند متعال اس سے ہزار دنیاوی آفتیں دور کر دے گا، جن میں سے سب سے آسان دین سے ارتداد ہے اور اس کے لئے آخرت میں ہزار ٹھکانے تیار کرے گا، جن میں سے ایک رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت ہے۔

تسبیحات امام علی علیہ السلام پڑھنے کی فضیلت

تحریر: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری کچوروی

تسبیحات حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی مانند ایک اور بافضیلت تسبیح، تسبیحات امام علی علیہ السلام ہیں، جو نہایت ہی آسان اور بڑی فضیلت کی حامل ہیں۔ امام علی علیہ السلام کی تسبیح کچھ اس طرح سے پڑھی جاتی ہے۔
دس مرتبہ سبحان اللہ
دس مرتبہ الحمد للہ
دس مرتبہ اللہ اکبر
دس مرتبہ لا الہ الا اللہ۔۱۔
امیر المومنین (ع) نے براء بن عازب سے فرمایا: کیا میں تمہیں کوئی ایسی بات سکھاؤں کہ اگر تم اسے انجام دو گے تو تم خدا کے دوستوں میں سے ہو جاؤ گے؟ براء نے کہا: ہاں، آپ نے اسے مندرجہ بالا تسبیحیں سکھائیں پھر فرمایا: جو شخص ہر نماز کے بعد یہ تسبیح پڑھے گا، اللہ اس سے ہزار دنیاوی آفتیں دور کر دے گا، جن میں سے سب سے آسان دین سے اعراض کرنا ہے اور آخرت میں اس کے لیے ہزار ٹھکانے تیار کریں گے، جن میں سے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت ہے۔۲۔

"براء بن عازب" (متوفی 72 ہجری) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام علی علیہ السلام کے صحابی تھے۔ انہوں نے بہت سے غزوات میں حصہ لیا۔ وہ حدیث غدیر کے راویوں میں سے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں لوگوں کی ابوبکر کی بیعت کے بارے میں بنی ہاشم کو آگاہ کیا اور ابوبکر کی بیعت سے انکار کر دیا ور کوفہ ہجرت کر گئے۔۔ وہ واقعہ کربلا میں موجود نہیں تھے۔ تسبیح امیر المومنین امام علی علیہ السلام کا تعارف امالی شیخ صدوق جیسی کتاب میں بیان ہوا ہے اور اس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام علی علیہ السلام سے اس تسبیح کو اس طریقہ سے پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ "فَقَالَ یَا عَلِیُّ أَ وَ مَا تَدْرِی مَا إِطَابَةُ الْکَلَامِ مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَ أَمْسَى سُبْحَانَ‏ اللَّهِ‏ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَ لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ‏ وَ اللَّهُ‏ أَکْبَرُ عَشْرَ مَرَّات"۔۳۔ "اے علی! کیا آپ جانتے ہیں کہ گفتار کو پاک کرنا کیسے ممکن ہے؟ جس نے صبح و شام دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمدللہ اور دس مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا تو گویا اس نے اپنا کلام پاک کیا ہے۔

اس روایت کے مطابق دن کی ابتدا اور انتہاء میں خداوند متعال کی تسبیح بجا لانا چاہیئے۔ اسی طرح امام علی علیہ السلام نے بھی روزانہ نماز کے بعد اس تسبیح کو پڑھنے کی سفارش کی ہے۔ اسی طرح یہ روایت ان آیات کی ایک مصداق بھی بن سکتی ہے، جو دن کے آغاز اور آخر میں خدا کی تسبیح کرنے کی سفارش کرتی ہیں جیسے: (وَاذْكُرْ رَبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ) ۔۴۔ "اور اپنے رب کو خوب یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔" (فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا)۔۵۔ لہٰذا "جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں، اس پر صبر کریں اور طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے اپنے پروردگار کی ثناء کی تسبیح کریں۔" (وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ) ۔۶۔ "اور صبح و شام اپنے رب کی ثناء کے ساتھ تسبیح کریں۔"

(فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ)۔۷۔ "جو باتیں یہ کرتے ہیں، اس پر آپ صبر کریں اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اپنے رب کی ثناء کے ساتھ تسبیح کریں اور رات کے وقت بھی اور سجدوں کے بعد بھی اس کی تسبیح کریں۔" پس جو شخص ہر نماز کے بعد امام علی علیہ السلام کی تسبیح پڑھے گا، خداوند متعال اس سے ہزار دنیاوی آفتیں دور کر دے گا، جن میں سے سب سے آسان دین سے ارتداد ہے اور اس کے لئے آخرت میں ہزار ٹھکانے تیار کرے گا، جن میں سے ایک رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ مستدرک الوسائل، ج۱، ص۱۲۵۔ 5، ص۔ 82۔
۲۔ بحار الانوار ، ج۱، ص۱۱۔ 83۔
۳۔ شیخ صدوق، الامالی، ص 329۔
۴۔ آل عمران 41۔
۵۔ طه ،130۔
۶۔ غافر،55۔
۷۔ ق،۳۹-۴۰۔

برچسب: نویسنده: النا امیری تاريخ: چهارشنبه 11 شهريور 1405 ساعت: 20:45

صفحه بندی